Pages

Monday, 7 March 2011

اسلام کوقدیم، فرسودہ اور ناقابلِ عمل نظام قرار دینے کی سازش

اسلام کو قابلٍ نفرت بنانے کی ایک سازش
اِسلام کو قابلِ نفرت بنانے کی عالمگیر مہم ۔ ۔ ۔ این کاؤنٹرٹو
"این کاؤنٹر" ( اس رسالے کو پیرس ریویو بھی کہتے تھے) دوسری جنگ عظیم کے فورا بعد دنیا میں کمیونزم کا سب سے بڑا نقیب بن کر طلو ع ہوا۔ آفسٹ پیپر پر جدید ترین پرنٹنگ سسٹم کے تحت شائع ہونے والا یہ رسالہ پیرس کی بندرگاہوں، ایئرپورٹس اور ریلوے اسٹیشنوں سے نکلتا اور پھر چند ہی روز میں دنیا بھر کے ٹی ہاؤسز، کافی شاپس اور شراب خانوں میں پہنج جاتا، جہاں نہ صرف اس کی ایک ایک سطر کو الہام سمجھ کر پڑھا جاتا بلکہ ایمان کا درجہ دے کر اس پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا جاتا۔ یہ سچ ہے کہ اگر ہم مار کسی نظریات، مارکسزم کے پیروکاروں کے حلیوں اور ان کے متشدد نظریات کے تاریخ کھود کر نکالیں تو ہمیں "این کاؤنٹر" ہی ملے گا، جس نے پوری دنیا میں بھوک کو مضبوط ترین فلسفہ بنا دیا۔ یہ این کاؤنٹر ہی تھا جس سے متاثر ہو کر لوگوں نے بال بڑھا لئے، غسل کرنے کے عادت ترک کر دی، مارکسی لٹریچر کو مقدس سمجھ کر ایک ایک لفظ رٹ لیا، بیویوں کو طلاقیں دے دیں اور بچوں کو "ان امیروں کو لوٹ لو" کا درس دینا شروع کر دیا۔
رسالے کے پیچھے کروڑوں روبل تھے، دنیا کے ذہین ترین مار کسی دماغ تھے، ماہر صحافی تھے، انتہائے زیرک نقاد اور دانشور تھے، لہذا اس دور میں اس سے بڑھ کر معیاری، جامع اور پراثر جریدہ دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ معیار کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ سپیڈر، آڈن اور مارلو جیسے دانشور اس کے ایڈیٹوریل بورڈ میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ ایک بین الاقوامی مجلس ادارت تھی، جو دنیا بھر سے موصول ہونے والے مضامین، تجزیوں اور تبصروں کا کڑی نظر سے جائزہ لیتی، انہیں مار کسے کسوٹی پر پرکھتی، زبان و بیان کے غلطیوں کی نشاندہی کرتی، اعداد و شمار اور حقائق کی صحت کا اندازہ لگاتی۔ تسلی کے بعد یہ مضامین سیلف ڈیسکوں پر چلے جاتے، جہاں اپنے وقت کے ماہرین ان کا انگریزی میں ترجمہ کرتے، ان کی نوک پلک سنوارتے۔ اس کے بعد ایک اور شعبہ اس ترجمے کا جائزہ لیتا، اس میں پائی جانے والی جھول، سقم اور لفظی کوتاہیاں درست کرتا۔ آخر میں جب اشاعت کا مرحلہ آتا تو انتظامیہ انگریزی ٹیکسٹ کے ساتھ ساتھ اصل متن ( جو مختلف زبانوں میں ہوتا) بھی چھاپ دیتی، تاکہ اگر ترجمے میں کوئی غلطی رہ گئی ہو تو قارئین اصل مضمون دیکھ کراسے درست کر لیں۔ اس کڑے معیار، انتخاب اور عرق ریزی کے باعث ناقدین "این کاؤنٹر" کو کمیونزم کی ترویج میں وہ مقام دیتے تھے جو شاید کارل مارکس اور لینن کو بھی نصیب نہیں تھا۔
لیکن قارئین کرام! المیہ دیکھئے "این کاؤنٹر" کی اشاعت کے دس پندرہ برس بعد انکشاف ہوا کہ جسے دنیا کمیونزم کی بائبل سمجھ رہی تھی، دراصل سی آئی اے کا منصوبہ تھا اور امریکی خفیہ اِدارے کے ہیڈ کوارٹر کے ایک چھوٹے سے کمرے سے ڈپٹی سیکرٹری رینک کا ایک امریکی، دو کلرک اور ایک چپڑاسی چند فائلوں، ٹیلکس کے چند پیغامات اور کچھ خفیہ ٹیلیفون کالز کے ذریعے برسوں تک پوری اشتراکی دنیا کو بیوقوف بناتے رہے، ان کے نظریات میں زہر گھولتے رہے، یہاں تک کہ کمیونزم کے ٹارگٹ ممالک میں مقامی سطح پر کمیونزم کے خلاف مزاحمت شروع ہو گئی۔
عرصے بعد جب این کاؤنٹر پراجیکٹ کا چیف، ثقافتی یلغار کے ایک سیمینار میں شرکت کے لئے پیرس گیا تو شرکاء نے اٹھ کر اس کا استقبال کیا۔ بوڑھے ریٹائرڈ امریکی نے ہیٹ اتار کر سب کا شکریہ ادا کیا اور پھر جھک کر سیٹ پر بیٹھ گیا۔ پوچھنے والوں نے پوچھا "سر! آپ نے یہ سب کچھ کیسے کیا؟" بوڑھا امریکی مسکرایا اور پھر مائیک کو انگلی سے چھو کر بولا: "ینگ میں ویری سمپل، ہم نے کمیونزم کو اتنا کڑا، سخت اور غیر لچک دار بنا دیا کہ لوگوں کے لئے قابلِ قبول ہی نہ رہا"۔ ایک اور نوجوان اٹھا اور بوڑھے سے مخاطب ہو کر بولا: "لیکن جریدے کے سارے منتظمیں تو کمیونسٹ تھے اور جہاں تک ہماری معلومات ہیں، سی آئی اے کا ان سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں تھا"۔
بوڑھے نے قہقہ لگایا اور پھر دوبارہ مائیک کو چھو کر بولا: "نوجوان ہاں، ہمارا این کاؤنٹر کی انتظامیہ، اس کے ایڈیٹوریل بورڈ اور اس کے کمیونسٹ ورکرز سے کوئے تعلق نہیں تھا، لیکن دنیا کے مختلف کونوں سے این کاؤنٹر تک پہنچنے والے مضامیں تو ہم لوگ ہی لکھواتے تھے"۔ ایک اور نوجوان کھڑا ہوا اور بوڑھے کو ٹوک کر بولا: "لیکن اس سے کیا ہوتا ہے؟" بوڑھا آہستہ سے مسکرایا اور پھر مائیک چٹکی میں پکڑ کر بولا: "بہت کچھ ہوتا ہے، ینگ مین! تم خود فیصلہ کرو، جو بائبل ایسے احکامات دے جو انسانی فطرت سے متصادم ہوں، جو انسان کو آزادی سے سوچنے، بولنے اور عمل کرنے سے روکتے ہوں، جو لوگوں کو بدبودار کپڑے پہننے، شیو نہ کرنے، دانت گندے رکھنے، اور گالے دینے کا درس دیتی ہو، وہ لوگوں کے لئے قابلِ قبول ہو گی؟ ہم نے یہی کیا۔ این کاؤنٹر کے پلیٹ فارم سے اشتراکی نظریات کے حامل لوگوں کو بے لچک، متشدد اور سخت مؤقف کے حامل افراد ثابت کر دیا جس کے بعد تیسری دنیا میں ان لوگوں کے خلاف مزاحمتی تحریکیں اٹھیں اور ہمارا کام آسان ہو گیا"۔ یہاں پہنچ کر پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ بوڑھا نشست سے اٹھا، دوبارہ ہیٹ اتار کر ہوا میں لہرایا، سینے پر ہاتھ رکھا اور سٹیج کے اداکاروں کی طرح حاضرین کا شکریہ ادا کرنے لگا۔
اور میں جب بھی محفلوں میں "پڑھے لکھے" خواتیں و حضرات کے منہ سے علماء کرام کے خلاف "فتوے" سنتا ہوں، نوجوانوں کو اسلام کو (نعوذ باللہ) قدیم، فرسودہ اور ناقابلِ عمل نظام قرار دیتے دیکھتا ہوں، شائستہ، خاموش طبعہ اورذکر اللہ سے جھکے ہوئے لوگوں کو "مولوی" کے نام سے مخاطب ہوتا دیکھتا ہوں، ہاں! میں جب مسجد کے سامنے کلاشنکوف بردار گارڈ دیکھتا ہوں، مختلف مذہبی رہنماؤں کو کیل کانٹے سے لیس باڈی گارڈز کے ساتھ دیکھتا ہوں۔ اخبارات، رسائل و جرائد کی پھیلائی ڈس انفارمیشن پرمدرسوں کے معصوم بچوں کو سڑکوں پر توڑ پھوڑ کرتے دیکھتا ہوں، تو میں سوچتا ہوں کہیں سی آئی اے ہیڈ کوارٹر کے کسی کمرے میں بیٹھا کوئی ڈپٹی سیکرٹری، دو کلرک اور ایک چپڑاسی چند فائلوں، ٹیلکس کے چند پیغامات اور ٹیلی فون کی کچھ کالز کی مدد سے اسلام کو اسلامی دنیا میں اجنبی بنا رہے ہوں، اسے فرسودہ، ناقابلِ عمل اور انسانی فطرت کے خلاف نظام ثابت نہ کر رہے ہوں؟
قارئین کرام! اگر آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں تو آپ مجھ سے پورا اتفاق کریں گے کہ اسلام کے خلاف جتنی نفرت اسلام کے ذریعے پھیلائی گئی، مولوی کو جتنا مولوی کے ذریعے ناقابلِ برداشت بنایا گیا، مدرسے کو مدرسے کے ذریعے جتنا قابلِ نفریں ثابت کیا گیا اور مسجد کو مسجد کے ذریعے جتنا بدنام (نعوذ باللہ) کیا گیا، اتنا پچھلے دو تین سو برسوں میں یہودیوں، عیسائیوں اور ہندوؤں کے بیانات، خطبات اور تحریروں نے نہیں کیا۔
یقین کیجئے، جب کوئی نوجوان بڑی نفرت سے کہتا ہے یہ "مولوی" تو فوراً میرے دماغ میں ایک بوڑھے امریکی کی تصویر اُبھر آتی ہے، جو مائیک کو چٹکی میں پکڑ کر کہتا ہے " ویری سمپل، ہم نے اسلام کو اتنا کڑا، سخت اور غیر لچک دار بنا دیا کہ وہ لوگوں کے لئے قابلِ قبول ہی نہ رہا" اور بوڑھا کہتا ہے: " ہم نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ جس مذہب میں ایک مولوی دوسرے مولوی کے پاس بیٹھنے کا روادار نہیں، وہ مذہب جدید دنیا کے انسانوں کے لئے کیسے قابل قبول ہوسکتا ہے۔ ہاں ہم نے ثابت کر دیا کہ جو لوگ معمولی سا اختلاف برداشت نہیں کرسکتے، اپنی مسجد میں کسی دوسرے مسلمان کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے، وہ جمہوری روایات کی پاسداری کیسے کرسکتے ہیں؟ ہاں ہم نے ثابت کر دیا کہ مسلمان پتھر کے زمانے کے لوگ ہیں، جو ہر سوال کا جواب پتھر سے دیتے ہیں"۔
ہاں، رات کے آخرے پہر جب گلی کی ساری بتیاں کہر کی چادر اوڑھے سو چکی ہیں، میں سوچ رہا ہوں کہ عالم اسلام میں کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں جو "این کاؤنٹر پراجیکٹ ٹو" کی فائل پڑھ سکے۔

حوالہ: پاک نیٹ

Sunday, 6 March 2011

قصہ حضرت جنید بغدادیؒ کا

عظمت اہل بیت

کسی زمانے میں بغداد میں جنید نامی ایک پہلوان رہا کرتا تھا۔ پورے بغداد میں اس پہلوان کے مقابلے کا کوئی نہ تھا۔ بڑے سے بڑا پہلوان بھی اس کے سامنے زیر تھا۔ کیا مجال کہ کوئی اس کے سامنے نظر ملا سکے۔ یہی وجہ تھی کہ شاہی دربار میں اس کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور بادشاہ کی نظر میں اس کا خاص مقام تھا۔
ایک دن جنید پہلوان بادشاہ کے دربار میں اراکین سلطنت کے ہمراہ بیٹھا ہوا تھا کہ شاہی محل کے صدر دروازے پر کسی نے دستک دی۔ خادم نے آکر بادشاہ کو بتایا کہ ایک کمزور و ناتواں شخص دروازے پر کھڑا ہے جس کا بوسیدہ لباس ہے۔ کمزوری کا یہ عالم ہے کہ زمین پر کھڑا ہونا مشکل ہو رہا ہے۔ اس نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ جنید کو میرا پیغام پہنچا دو کہ وہ کشتی میں میرا چیلنج قبول کرے۔ بادشاہ نے حکم جاری کیا کہ اسے دربار میں پیش کرو۔ اجنبی ڈگمگاتے پیروں سے دربار میں حاضر ہوا۔ وزیر نے اجنبی سے پوچھا تم کیا چاہتے ہو۔ اجنبی نے جواب دیا میں جنید پہلوان سے کشتی لڑنا چاہتا ہوں۔ وزیر نے کہا چھوٹا منہ بڑی بات نہ کرو۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جنید کا نام سن کر بڑے بڑے پہلوانوں کو پسینہ آ جاتا ہے۔ پورے شہر میں اس کے مقابلے کا کوئی نہیں اور تم جیسے کمزور شخص کا جنید سے کشتی لڑنا تمہاری ہلاکت کا سبب بھی ہو سکتا ہے۔ اجنبی نے کہا کہ جنید پہلوان کی شہرت ہی مجھے کھینچ کر لائی ہے اور میں آپ پر یہ ثابت کرکے دکھاؤں گا کہ جنید کو شکست دینا ممکن ہے۔ میں اپنا انجام جانتا ہوں آپ اس بحث میں نہ پڑیں بلکہ میرے چیلنج کو قبول کیا جائے۔ یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ شکست کس کا مقدر ہوتی ہے۔
جنید پہلوان بڑی حیرت سے آنے والے اجنبی کی باتیں سن رہا تھا۔ بادشاہ نے کہا اگر سمجھانے کے باوجود یہ بضد ہے تو اپنے انجام کا یہ خود ذمہ دار ہے۔ لٰہذا اس کا چیلنج قبول کر لیا جائے۔ بادشاہ کا حکم ہوا اور کچھ ہی دیر کے بعد تاریخ اور جگہ کا اعلان کر دیا گیا اور پورے بغداد میں اس چیلنج کا تہلکہ مچ گیا۔ ہر شخص کی یہ خواہش تھی کہ اس مقابلے کو دیکھے۔ تاریخ جوں جوں قریب آتی گئی لوگوں کا اشتیاق بڑھتا گیا۔ ان کا اشتیاق اس وجہ سے تھا کہ آج تک انہوں نے تنکے اور پہاڑ کا مقابلہ نہیں دیکھا تھا۔ دور دراز ملکوں سے بھی سیاح یہ مقابلے دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ جنید کے لئے یہ مقابلہ بہت پراسرار تھا اور اس پر ایک انجانی سی ہیبت طاری ہونے لگی۔ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر شہر بغداد میں امنڈ آیا تھا۔
جنید پہلوان کی ملک گیر شہرت کسی تعارف کی محتاج نہ تھی۔ اپنے وقت کا مانا ہوا پہلوان آج ایک کمزور اور ناتواں انسان سے مقابلے کے لئے میدان میں اتر رہا تھا۔ اکھاڑے کے اطراف لاکھوں انسانوں کا ہجوم اس مقابلے کو دیکھنے آیا ہوا تھا۔ بادشاہ وقت اپنے سلطنت کے اراکین کے ہمراہ اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے تھے۔ جنید پہلوان بھی بادشاہ کے ہمراہ آ گیا تھا۔ سب لوگوں کی نگاہیں اس پراسرار شخص پر لگی ہوئی تھیں۔ جس نے جنید جیسے نامور پہلوان کو چیلنج دے کر پوری سلطنت میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ مجمع کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اجنبی مقابلے کے لئے آئے گا پھر بھی لوگ شدت سے اس کا انتظار کرنے لگے۔ جنید پہلوان میدان میں اتر چکا تھا۔ اس کے حامی لمحہ بہ لمحہ نعرے لگا کر حوصلہ بلند کر رہے تھے۔ کہ اچانک وہ اجنبی لوگوں کی صفوں کو چیرتا ہوا اکھاڑے میں پہنچ گیا۔ ہر شخص اس کمزور اور ناتواں شخص کو دیکھ کر محو حیرت میں پڑ گیا کہ جو شخص جنید کی ایک پھونک سے اڑ جائے اس سے مقابلہ کرنا دانشمندی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود سارا مجمع دھڑکتے دل کے ساتھ اس کشتی کو دیکھنے لگا۔ کشتی کا آغاز ہوا دونوں آمنے سامنے ہوئے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گئے۔ پنجہ آزمائی شروع ہوئی اس سے پہلے کہ جنید کوئی داؤ لگا کر اجنبی کو زیر کرتے اجنبی نے آہستہ سے جنید سے کہا اے جنید ! ذرا اپنے کام میرے قریب لاؤ۔ میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ اجنبی کی باتیں سن کر جنید قریب ہوا اور کہا کیا کہنا چاہتے ہو۔
اجنبی بولا اے جنید ! میں کوئی پہلوان نہیں ہوں۔ زمانے کا ستایا ہوا ہوں۔ میں آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ سید گھرانے سے میرا تعلق ہے میرا ایک چھوٹا سا کنبہ کئی ہفتوں سے فاقوں میں مبتلا جنگل میں پڑا ہوا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے شدت بھوک سے بے جان ہو چکے ہیں۔ خاندانی غیرت کسی سے دست سوال نہیں کرنے دیتی۔ سید زادیوں کے جسم پر کپڑے پھٹے ہوئے ہیں۔ بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچا ہوں۔ میں نے اس امید پر تمہیں کشتی کا چیلنج دیا ہے کہ تمہیں حضور اکرم کے گ صلی اللہ علیہ وسلم ھرانے سے عقیدت ہے۔ آج خاندان نبوت کی لاج رکھ لیجئے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج اگر تم نے میری لاج رکھی تو کل میدان محشر میں اپنے نانا جان سے عرض کرکے فتح و کامرانی کا تاج تمہارے سر پر رکھواؤں گا۔ تمہاری ملک گیر شہرت اور اعزاز کی ایک قربانی خاندان نبوت کے سوکھے ہوئے چہروں کی شادابی کے لئے کافی ہوگی۔ تمہاری یہ قربانی کبھی بھی ضائع نہیں ہونے دی جائے گی۔
اجنبی شخص کے یہ چند جملے جنید پہلوان کے جگر میں اتر گئے۔ اس کا دل گھائل اور آنکھیں اشک بار ہو گئیں۔ سیدزادے کی اس پیش کش کو فوراً قبول کرلیا اور اپنی عالمگیر شہرت، عزت و عظمت آل سول صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہ کی۔ فوراً فیصلہ کر لیا کہ اس سے بڑھ کر میری عزت و ناموس کا اور کونسا موقع ہو سکتا ہے کہ دنیا کی اس محدود عزت کو خاندان نبوت کی اڑتی ہوئی خاک پر قربان کردوں۔ اگر سید گھرانے کی مرجھائی ہوئی کلیوں کی شادابی کے لئے میرے جسم کا خون کام آ سکتا ہے تو جسم کا ایک ایک قطرہ تمہاری خوشحالی کے لئے دینے کے لئے تیار ہوں۔ جنید فیصلہ دے چکا۔ اس کے جسم کی توانائی اب سلب ہو چکی تھی۔ اجنبی شخص سے پنجہ آزمائی کا ظاہری مظاہرہ شروع کر دیا۔
کشتی لڑنے کا انداز جاری تھا۔ پینترے بدلے جا رہے تھے۔ کہ اچانک جنید نے ایک داؤ لگایا۔ پورا مجمع جنید کے حق میں نعرے لگاتا رہا جوش و خروش بڑھتا گیا جنید داؤ کے جوہر دکھاتا تو مجمع نعروں سے گونج اٹھا۔ دونوں باہم گتھم گتھا ہو گئے یکایک لوگوں کی پلکیں جھپکیں، دھڑکتے دل کے ساتھ آنکھیں کھلیں تو ایک ناقابل یقین منظر آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ جنید چاروں شانے چت پڑا تھا اور خاندان نبوت کا شہزادہ سینے پر بیٹھے فتح کا پرچم بلند کر رہا تھا۔ پورے مجمع پر سکتہ طاری ہو چکا تھا۔ حیرت کا طلسم ٹوٹا اور پورے مجمعے نے سیدزادے کو گود میں اٹھا لیا۔ میدان کا فاتح لوگوں کے سروں پر سے گزر رہا تھا۔ ہر طرف انعام و اکرام کی بارش ہونے لگی۔ خاندان نبوت کا یہ شہزادہ بیش بہا قیمتی انعامات لے کر اپنی پناہ گاہ کی طرف چل دیا۔
اس شکست سے جنید کا وقار لوگوں کے دلوں سے ختم ہو چکا تھا۔ ہر شخص انہیں حقارت سے دیکھتا گزر رہا تھا۔ زندگی بھر لوگوں کے دلوں پر سکہ جمانے والا آج انہی لوگوں کے طعنوں کو سن رہا تھا۔ رات ہو چکی تھی۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر جنید اپنے بستر پر لیٹا اس کے کانوں میں سیدزادے کے وہ الفاظ بار بار گونجتے رہے۔ “آج میں وعدہ کرتا ہوں اگر تم نے میری لاج رکھی تو کل میدان محشر میں اپنے نانا جان سے عرض کرکے فتح و کامرانی کا تاج تمہارے سر پر رکھواؤں گا۔”
جنید سوچتا کیا واقعی ایسا ہوگا کیا مجھے یہ شرف حاصل ہوگا کہ حضور سرور کونین حضرت محمد کے م صلی اللہ علیہ وسلم قدس ہاتھوں سے یہ تاج میں پہنوں ؟ نہیں نہیں میں اس قابل نہیں، لیکن خاندان نبوت کے شہزادے نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ آل رسول کا وعدہ غلط نہیں ہو سکتا یہ سوچتے سوچتے جنید نیند کی آغوش میں پہنچ چکا تھا نیند میں پہنچتے ہی دنیا کے حجابات نگاہوں کے سامنے سے اٹھ چکے تھے ایک حسین خواب نگاہوں کے سامنے تھا اور گنبد خضراء کا سبز گنبد نگاہوں کے سامنے جلوہ گر ہوا، جس سے ہر سمت روشنی بکھرنے لگی، ایک نورانی ہستی جلوہ فرما ہوئی، جن کے حسن و جمال سے جنید کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں، دل کیف سرور میں ڈوب گیا در و دیوار سے آوازیں آنے لگیں الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ۔ جنید سمجھ گئے یہ تو میرے آقا ہیں جن کا میں کلمہ پڑھتا ہوں۔ فوراً قدموں سے لپٹ گئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے جنید اٹھو قیامت سے پہلے اپنی قسمت کی سرفرازی کا نظارہ کرو۔ نبی ذادوں کے ناموس کے لئے شکست کی ذلتوں کا انعام قیامت تک قرض رکھا نہیں جائے گا۔ سر اٹھاؤ تمہارے لئے فتح و کرامت کی دستار لے کر آیا ہوں۔ آج سے تمہیں عرفان و تقرب کے سب سے اونچے مقام پر فائز کیا جاتا ہے۔ تمہیں اولیاء کرام کی سروری کا اعزاز مبارک ہو۔
ان کلمات کے بعد حضور سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنید پہلوان کو سینے سے لگایا اور اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت خواب میں جنید کو کیا کچھ عطا کیا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اتنا اندازہ ضرور لگایا جا سکتا ہے کہ جب جنید نیند سے بیدار ہوئے تو ساری کائنات چمکتے ہوئے آئینے کی طرح ان کی نگاہوں میں آ گئی تھی ہر ایک کے دل جنید کے قدموں پر نثار ہو چکے تھے۔ بادشاہ وقت نے اپنا قیمتی تاج سر سے اتار کر ان کے قدموں میں رکھ دیا تھا۔ بغداد کا یہ پہلوان آج سید الطائفہ سیدنا حضرت جنید بغدادی کے نام سے سارے عالم میں مشہور ہو چکا تھا۔ ساری کائنات کے دل ان کے لئے جھک گئے تھے۔
(تاریخی واقعہ کی تفصیل ملاحظہ کیجئے کتاب زلف و انجیر صفحہ 72۔ 62)

Wednesday, 2 March 2011

اسلام کے بارے میں شکوک


”مغرب میں نافذ زیادہ تر قوانین اسلامی ہیں اور یہ کہ اسلام بارے شکوک و شبہات پیدا کرنے میں نام نہاد مسلم مفکرین کا بڑا ہاتھ ہے۔“
اگر جان کی امان پاوں تو اس پر کچھ عرض کروں کہ مغرب میں نافذ زیادہ تر قوانین اسلامی ہی نہیں بلکہ ان تمام تر قوانین پر ”عملدرآمد“ کی رفتار اور انداز بھی عین اسلامی ہے کیونکہ ہمار ے پیارے اسلامی جمہوریہ کے برعکس ان غیراسلامی جمہوریاوں پر ”استنثنائ“ ، ”این آر او“ اور ”نظریہ ضرورت“ ٹائپ خباثتوں اور لعنتوں کا کوئی منحوس سایہ نہیں۔ منی لانڈرنگ اور منی میکنگ سے لے کر منی سمگلنگ تو کیا… قیادت کے کریکٹر میں بے ضرر سی مونیکا بھی مل جائے تو سپرپاور کا سربراہ اور دنیا کا طاقتور ترین آدمی ہانپتا کانپتا اور لرزتا دکھائی دیتا ہے اور کوئی فراڈ یا سزا سننے یا بچ نکلنے کے بعد ”وی فار وکٹری“ کا نشان بناتا دکھائی نہیں دیتا۔ ایک ایک پائی کاخرچ کرسٹل سے زیادہ ٹرانسپیرنٹ ہوتا ہے اور وہاں کا شیطان شہری بھی توقع رکھتا ہے کہ اس کی قیادت فرشتوں جیسی اور ہر اعتبار سے بے داغ ہو جبکہ یہاں اس مکروہ محاورے نے اب تک ہماری جان نہیں چھوڑی کہ ”چور اچکا چودھری اور غنڈی رَن پردھان“
مختصراً یہ کہ ان کے بیشتر قوانین بھی اسلامی، ان پر عملدرآمد بھی اسلامی کہ عدالتوں پر چڑھائی صرف ہمارے ہاں ہی ہوتی ہے اور بدقسمتی سے یہ محاورہ بھی ہماری ہی ایجاد ہے کہ ”وکیل کیاکرنا ہے جج ہی کرلو“ اور ان سب سے اہم بات یہ کہ وہاں کے عوام کے بیشتر رویئے بھی اسلامی ہیں مثلاً درج ہماری کتابوں میں ہے کہ… صفائی نصف ایمان ہوتی ہے لیکن عمل اس پر مغرب میں ہو رہا ہے کہ پورے یورپ کا گند ہماری ایک بستی کی گندگی کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ہم اپنے بچوں کو خالص دودھ تک نہیں دے سکتے، وہاں اشیائے خور و نوش میں ملاوٹ کا تصور تک موجود نہیں۔ ہماری زیریں عدالتوں میں پیشہ ور گواہ دندناتے پھرتے ہیں اور وہ اس ”پروفیشن“ کے خیال تک سے نا آشنا ہیں۔ وہاں کسی کو "Son of a Bitch" کہہ لیں تو شاید نظر انداز کردے، کسی کو ”جھوٹا“ کہہ کر دیکھیں وہ مرنے مارنے پر تل جائے گا۔ وہ ”سور“ کھاتے ہیں ”حرام“ نہیں کھاتے جبکہ ہم سورنہیں کھاتے لیکن اوپر ی سطح سے لے کر نیچلی سطح تک حرام ہمارا کلچر بن چکا ہے۔
آقا نے فرمایا ”سادگی ایمان کی علامت ہے“ ان کے کھرب پتی بھی قیمتی کاریں اورلباس ترک کرچکے، ہم نے اسراف اور نمود و نمائش کو زندگی کاحاصل سمجھ لیا۔ فرمایا… ”کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کوئی ایسی چیز بیچے جس میں کسی نقص کے ہونے کا اس کو علم ہو“… اس حکم پر عمل کیا ہو رہاہے؟ مغرب میں یا ہماری منڈیوں میں جہا ں جعل سازی کو فنکاری سمجھا جاتا ہے۔
مغرب میں قبضہ گروپوں کا وجود نہیں او ر یہاں یہ ”معزز ترین“ لوگوں کا پیشہ ہے۔ حسد، کینہ، غیبت ہمارے معمولات میں شامل، انہیں ان کی فرصت نہیں۔ افراد سے لے کر اداروں تک تجاوزات ہمارا ”وے آف لائف‘ ‘اور اہل مغرب اس ”خوبصورتی“ سے بھی محروم… کس کس مسئلے اور مرض کا رونا روئیں، اپنی کس کس کجی کا ماتم کریں۔
وہاں بیشتر قوانین ہی اسلامی نہیں… ان کا نفاذ ہی اسلامی نہیں بلکہ اشرافیہ اور عوام کے بیشتر رویئے بھی اسلامی ہیں۔ اونچ نیچ اور ذات پات سے لے کر نظم و ضبط اور پابندی اوقات تک ہمیں ملنے والی ہر ہدایت پر عمل مغرب میں ہو رہاہے اور یہی موازنہ اورتقابلی جائز ہ میرا جرم بن چکا۔ پچھلے دنوں ایک بے حد محترم اور بھلے آدمی نے لکھا کہ مسلمانوں اور پاکستان کی تحقیر میرا پسندیدہ موضوع ہے حالانکہ میں صرف سفاکانہ سرجری کا مجرم ہوں۔ تحقیر نہیں بغیر کسی رو رعایت کے تنقید برائے تعمیر کو عبادت سمجھتا ہوں اسی لئے ڈاکٹر طاہر القادری کے اس تبصرے پر پھر سے میرے زخم ہرے ہوگئے کہ مغرب میں بیشتر قوانین اسلامی ہیں، ان کا نفاذ اسلامی ہے، ان کے بیشتررویئے اور اعمال اسلامی ہیں جبکہ ہم ہمیں ملنے والے احکامات کے برعکس زندگیاں بسر کر رہے ہیں اور یہی ہمارے زوال کا سبب ہے… کوئی سازش نہیں۔

مختصر یہ کہ خدا کے لئے اس ملک کا نام تبدیل کردیں کیونکہ پاک صرف اللہ کی ذات ہے اور یہ اس کے لئے صفت مخصوصہ ہے۔ ہم اپنے آپ کو پاکستانی کہہ کر سر تا پا مردار ہو گئے۔

Tuesday, 1 March 2011

Khwaja Maudood Chishti


Maudood Chishti (also known as Qutubuddin, Shams Sufiyaan and Chiraag Chishtiyaan) was an early day Sufi Saint, a successor to his father and master Abu Yusuf Bin Saamaan, twelfth link in the Sufi silsilah of Chishti Order, and the Master of Shareef Zandani. He was born around 430 Hijri in the city of Chisht. He initially received education from his father. He memorized Qur'an by the age of 7, and completed his education when he was 16. His work includes two books Minhaaj ul Arifeen and Khulaasat ul Shariah. He died in the month of Rajab at the age of 97 in 533 AH.(March 1139 C.E) He was buried at Chisht like many of the early Chishtiyya.[1]

Tasawuf
Hazrat Khwaja Al Mawdud Chisti became the mureed of Hazrat Khwaja Nasir Abu Yusuf Bin Saamaan Chisti. After he became a mureed his murshid (Master) addressed him by saying, "Oh Qutubuddin Mowdud, adopt the path of the Faqr." The word faqar is literally translated as poverty, but in the language of tasawwuf, to be rich with Allah. It is for one to have total trust in Allah and not to be dependent on any other than Allah. Faqar is the way of true dervishes. Khwaja Mawdud Al Chisti accepted his murshids (spiritual guidance) advice. Shortly after he went to seclusion and remained absorbed in worship of his Creator for twenty years. During this period he rarely ate and was reported to complete two recitation of the quran during day and two during the night. He also used to constantly make the zikr of La Ilaha Illallah. Due to all his consistent worship, everything happening in the universe became apparent to him, and nothing was kept hidden.

Khwaja Maudood's Kulifa
Khwaja Mawdud Chishti visited Balkh (the place of birth of Jalaluddin Rumi) and Bukhara , a place mentioned in the famous line of Hafez"If that Turk of Shiraz would take my heart in his hand, i would give for his Hindu mole both Bukhara and Samarkand". Khwaja Haji Sharif Zindani,his successor, renounced all and everything.He led a life of strict seclusion for 40 yearsand hated society.He used to live on leaves of trees.Although several of the Chishtiyya stressed the value asceticism, in general they say that seclusion and ascetic practice is for short periods only.You should live in the midst of society than keep your spiritual ideals. It is said that the followers of Khwaja Qutubuddin were around 10, 000 not including close friends and allies. It is impossible to enumerate Khwaja Mawdud's Khulafa. For the sake of barakat, a few are mentioned hereunder.
Khwaja Abu Ahmed
Khwaja Ahmad Zandani
Shah Sanjan
Shaikh Abu Nasseer Shakeeban
Shaikh Hassan Tibti
Shaikh Ahmed Baderoon
Khwaja Sabz Paush
Shaikh Uthman Awwal
Khwaja Abul Hassan

Among them the link in this (CHISTI) Silsila is Khwaja Shareef Zindani who we will soon discussed। That is why his message spread so fast and so far and wide. His influence was not just limited to Hirat but spread in the west to Khurasan, Iraq, Syria and Hijaz and in the south to Iran ,Siestan and the subcontinent. In the west your message was spread by the likes of Sharif Zindani, Khwaja Usman Barooni. Khwaja Qutubuddin was 29 when his father died and he inherited the throne. He never visited the rich or went to the royal courts. He was a simple man who led a simple life. He was always courteous to the needs of others. He always was the first to greet people and respected everyone. [2]

Books
Chisti's works include two books: Minhaaj ul Areifeen and Khulaasat ul Shariah.

Sayings1॥
The lover of sama’ (Sufi music) is a stranger to the outside world, but is a friend to God.
2.. The mysteries of sama’ are inexplicable. If you reveal them you are liable to punishment.
Maulana Zakariyah says: “Khwajah Maudood Chisti acquired the capabilities known as Kash-e-Quloob (revelations of the conditions of the hearts) and Kashf-e-Quboor (revelation of the conditions of the graves).”[3]
Whenever Khwaja Maudood Chishti wanted to see the Ka’aba, angels airlifted it to the land of Chisht.[4]
Khwaja Qutbuddin Maudood Chishti’s dead body flew in the air on its way to the graveyard. Khwaja Fareeduddin Ganj Shakar upon narrating this fell unconscious.[5]

Descendants
Khwaja Maudood Chishti's son Khwaja Najamuddin Ahmed Ahmed Mushtaq Bin Moudod Chishti buried at Chisht. Syed Abul Alla moudodi was also a descendant of yours who was born at Aurangabad India in 1903 Hijri. Many of your descendants still live in the area. A very famous descendant of yours Khwaja Nizam-ud-din Alli's tomb is in the vicinity of Pishin city of Balochistan in a place called Minziki is still home to many of your descendants. Khwaja NaqruddinChishti Moudodi (Shaal Pir Baba) is another well known descendant of yours whose tomb is in the capital city (Quetta) of Balochistan, located in Quetta chaowni near the old fort. Khwaja Wali Kirani Moudodi Chishti Kirani and Khwaja Mir Shahdad Moudodi Chishti Kirani are also Khwaja Maudood Chishti's descendants.The tombs of both these famous saints are in a place called Kirani, west of Quetta city. A large number of his descendants still live in Kirani. Last but not the least Khwaja Ibrahim Yukpassi another important saint belonging to Khwaja Maudood Chishti's family is buried in Mastung Balochistan and Khwaja Dopassi is buried in Dhadar near the beginning of Bolan pass Balochistan Pakistan. Descendants Khwaja Qutubuddin Mohammad Thani Chishti got migrated to Sindh Old Bukkhar ( near Shahdadkot). One of this family descendants named Khwaja Assadullah Kunjnashin Bukkhari migrated to Nawada-Gaya areas of Bihar(India). His followers preached Islam and guided the Muslims there. Khwaja Abdullah Chishti and Hazrat Taj Mahmood Haqqani Chishti were the Sufi saints of Chishti order and direct descendants of Maudood Chishti's son. Their shrines are situated in Milkitola Chhota Sheikhpura, Narhat block near Hisua (GPRS 24 83N 85 43E)

Descendants in Balochistan
PakistanIn the valley of shal kot (Quetta) and Bolan in the Balochistan province the influence of the Moudodi family reached within the lifetime of the head of the family. According to one source Khwaja Qutubuddin Moudod visited the area at least once. He came to the home of his follower Shiekh Babut in the area of Shoroak. Shiekh Babut belonged to the pashtoon tribe called 'Bariech'. During the lifetime of Khwaja Moudod Chishti his friends and followers started to spread the message of Islam. Later on Khwaja Qutubuddin Moudod Chishti's own family (the sadat) advanced the message of Islam in greater Balochistan and moulded the life of ordinary people according to the ideology of islam.

(16) - Syed Khwaja Qutubuddin Maudood Chishti in Chisht Hirat Afghanistan.(B430h D527h)
(17) - Syed Khwaja Najamuddin Ahmed Mushtaq in Chisht Hirat Afghanistan (B492h D577h)
(18) - Syed Rukun ud din Khwaja Hussain Chishti in Chisht Hirat Afghanistan.(B545h D635h)
(19) - Syed Qud ud din Khwaja Mohammad in Chisht Hirat Afghanistan. (B584h D624h)
(20) - Syed Khwaja Qutubuddin Ibn Khwaja Muhammed (B602h D680h)
(21) - Syed Aud ud din Khwaja Abu Ahmed Syed Muhammed in Chisht Hirat Afghanistan. (B635h D710h)
(22) - Syed Taqi ud din Khwaja Yusuf in Chisht Hirat Afghanistan. (B662h D745h)
(23) - Syed Nassar ud din Khwaja Waleed in Chisht Hirat Afghanistan. (B727h D820h)
Shaal Pir Baba - Syed Shaal Pir Baba chishti Moudodi . Quetta.
(24) - Syed Khwaja Wali Kirani Moudodi Chishti in Kirani Quetta Balouchistan Pakistan.
(25) - Syed Khwaja Mir Shahdad Moudodi Chishti in Kirani Quetta Balouchistan Pakistan.

Shijra-e-tareekat
Main source:
Muhammad (pbuh)
Ali
Early Sufis which, though not part of a formal order, are part of the spiritual chain:
1.Hasan al-Basri (died 110 AH)
2.Abdul Waahid Bin Zaid (died 176 AH)
3.Fudhail Bin Iyadh (died 187 AH)
4.Ibrahim Bin Adham (died 162 AH)
5.Huzaifah Al-Mar’ashi (died 202 AH)
6.Abu Hubairah Basri (died 287 AH)
7.Mumshad Dinawari (died 298 AH)
Start of the Chishti Order:
1.Abu Ishaq Shami (died 329 AH)
2.Abu Ahmad Abdal (died 355 AH)
3.Abu Muhammad Bin Abi Ahmad (died 411 AH)
4.Abu Yusuf Bin Saamaan (died 459 AH)
5.Maudood Chishti (died 527 AH)
6.Shareef Zandani
7.Usman Harooni
8.Moinuddin Chishti
9.Qutbuddin Bakhtiar Kaki
10.Fariduddin Ganjshakar

Family tree
Moudoi Chishti Kirani Quetta Balochistan Pakistan(1) -- Imam Ali ibn Abu Talib Amir al-Mu'minin Buried at the Imam Ali Mosque in Najaf , Iraq .{March 17, 599 --- February 28, 661 aged 61}
(2) -- Imam Husayn ibn Ali Sayed al- - Buried at the Imam Husayn Shrine in Karbala, Iraq. (B4h D60h)
(3) -- Imam Ali ibn Husayn al-Sajjad, Zayn al-ʿĀbidin Buried in Jannat al-Baqi Medina.(B-h D94h)
(4) -- Imam Muhammad ibn Ali al-Baqir al-Ulum Buried in Jannat al Baqi Medina.(B-h D114h)
(5) -- Imam Ja'far al-Sadiq al-Sadiq - in Jannat al-Baqi Medina.(B80h D148h)
(6) -- Imam Musa al-Kadhimal-Kazim in the Kadhimiya in Baghdad Iraq .(B128h D183h)
(7) -- Imam Ali ibn Musa al-Rida, Reza in the Imam Reza shrine Mashad.(B153h D203h)
(8) -- Imam Muhammad ibn Ali al-Taqi, al-Jawad in the Kadhimiya in Baghdad Iraq.(B195h D220h)
(9) -- Imam Ali al-Hadi al-Hadi, al-Naqi in the Al Askari Mosque in Samarra Iraq.(B214h D254h)
(10) - Syed Imam Abdullah Ali Akbar (B238h D292h)
(11) - Syed Imam Syed Abu Muhammed Al Hussain in Chist Hirat Afghanistan. (B---h D352h)
(12) - Syed Abu Abdullah Muhammed in Chisht Hirat Afghanistan. (B270h D324h)
(13) - Syed Abu Jaffer Ibrahim in Chisht Hirat Afghanistan.(B-h D370h)
(14) - Syed Shams-ud-din Abu Nassar Muhammed Saman in Chisht Hirat Afghanistan. (B-h D398h)
(15) - Syed Khwaja Abu Yusuf Bin Saamaan Nasir-ud-din Abu Yusuf Bin Saamaan in Chisht Hirat Afghanistan. (B375h D459h)
(16) - Syed Khwaja Qutubuddin Maudood Chishti in Chisht Hirat Afghanistan.(B430h D527h[6]

Family tree (mother's side)
(Referenced from the book: Khwaja Ibrahim Yakpassi Chishti)
Amir-ul-momineen imam Hassan Raziallahtalla anha
Hazrat Syed Hassan Musna
Hazrat Syed Abdullah-al-Mahaz
Hazrat Syed Nasir-ud-din Hassan
Hazrat Syed Mujdad-al-maale
Hazrat Syed Hassan
Hazrat Syed Yahya
Hazrat Syed Ibrahim
Hazrat Syed Sultan Firsinafa
Hazrat Syed Khwaja Abu Ahmed Abdal Chishti
Hazrat Syeda Bibi Khizamatullah Taala Hassani (Mother of Abu Yusuf Bin Saamaan)
Hazrat Maudood Chishti